نئی دہلی،12؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )یہ معاملہ سننے میں عجیب لگے گا ، لیکن یہاں یہ معاملہ ہوا ہے۔ 42سال کے ہریش چند تیواری نے ایک ایسی کامیابی حاصل کر لی ہے جس سے ان کا نام تاریخ میں درج ہو جائے گا ۔ہریش چند تیواری ایسے پہلے شخص ہیں، جنہوں نے سپریم کورٹ کو اس بات کے لیے راضی کرلیا کہ موبائل فون ٹاور کے الیکٹرومیگنیٹک ریڈییشن سے انہیں کینسر ہواہے ۔سپریم کورٹ نے اس بنیاد پر موبائل ٹاور کو بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔گوالیار میں پرکاش شرما نام کے شخص کے گھر پر کام کرنے والے ہریش چند تیواری نے گزشتہ سال اپنی وکیل نویدتا شرما کے ساتھ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔اپنی شکایت میں ہریش نے کہا تھا کہ پڑوسی کے گھر کی چھت پر 2002میں غیر قانونی طریقہ س لگایا گیا بی ایس این ایل کا موبائل ٹاور 14سال سے ان کو نقصان دہ ریڈییشن کا شکار بنا رہا ہے۔تیواری نے عدالت عظمی کو بتایا کہ جہاں وہ کام کرتے ہیں ،وہاں سے پڑوسی کا گھر 50میٹر سے بھی کم فاصلے پر ہی ہے۔ان کے مطابق، مسلسل اور طویل ریڈییشن کے رابطے میں رہنے کی وجہ سے انہیں ہازکنس لمفوما (ایک طرح کا کینسر)ہو گیا۔جسٹس رنجن گوگوئی اورنوین سنہا کی بنچ نے بی ایس این ایل کو 7دن کے اندر مذکورہ ٹاور کو بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔ہندوستان میں ایسا پہلی بار ہو گا ،جب ایک شخص کی شکایت پرمضر ریڈییشن کو بنیاد بنا کوئی موبائل ٹاور بند کیا جائے گا۔سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت گزشتہ سال 18؍مارچ سے شروع ہوئی تھی ، عدالت نے فریقین سے انسانوں اور جانوروں پر ریڈییشن کے مضر اثرات سے منسلک اور بھی دستاویزات جمع کرنے کو کہا ہے۔